حوزہ نیوز ایجنسی کی رپورٹ کے مطابق، اٹلی میں 24 اکتوبر کو روم، میلان، ٹورین، بولونیا اور فلورنس سمیت مختلف شہروں میں احتجاجی مظاہرے ہوئے۔ ان مظاہروں میں طلبہ، نوجوانوں اور عام شہریوں نے شرکت کی۔ مظاہرین کا کہنا تھا کہ ایک طرف عوام مہنگائی اور روزگار کے عدم تحفظ سے پریشان ہیں، جبکہ دوسری طرف حکومت فوج اور سکیورٹی کے شعبوں پر اخراجات بڑھا رہی ہے۔
مظاہروں میں اٹلی کی وزیر اعظم جورجیا میلونی کی حکومت کی پالیسیوں پر بھی تنقید کی گئی۔ مظاہرین نے مطالبہ کیا کہ عوام کی معاشی مشکلات دور کرنے، روزگار کے مواقع پیدا کرنے اور شہریوں کی ضروریات پوری کرنے کو ترجیح دی جائے۔
ان احتجاجی مظاہروں میں عالمی حالات اور مشرق وسطیٰ کی صورت حال بھی نمایاں رہی۔ مظاہرین نے فلسطین کے پرچم اٹھائے اور ایران و لبنان کے عوام کے ساتھ یکجہتی کا اظہار کیا۔ ان مظاہروں میں جنگوں، فوجی کارروائیوں اور خطے میں بڑھتی ہوئی کشیدگی کے خلاف آواز اٹھائی گئی۔
رپورٹ کے مطابق، میلان میں مظاہرہ زیادہ تر پُرامن رہا، تاہم روم، ٹورین، بولونیا اور فلورنس میں بعض مقامات پر مظاہرین اور پولیس کے درمیان جھڑپیں ہوئیں۔ بعض مظاہرین نے اشیا اور پٹاخے پھینکے، جس کے جواب میں پولیس نے آنسو گیس اور واٹر کینن کا استعمال کیا۔ روم میں بعض مظاہرین کولوسیم کے احاطے میں بھی داخل ہوئے۔
اطالوی حکام کے مطابق، 24 اکتوبر کو 4,292 افراد کی شناخت کی گئی، 371 افراد کو پولیس مراکز منتقل کیا گیا یا وہاں روکا گیا، 9 افراد کو گرفتار کیا گیا اور 87 افراد کو عدالتی حکام کے سامنے پیش کیا گیا۔ پولیس مراکز منتقل کیے جانے یا وہاں روکے جانے والوں میں 110 کم عمر افراد بھی شامل تھے۔
گزشتہ ہفتے ہونے والے احتجاج کے بعد حکومت نے مظاہروں کے دوران تشدد کی روک تھام کے لیے سکیورٹی اقدامات مزید سخت کر دیے ہیں۔ اس صورت حال میں ایک طرف امن و امان برقرار رکھنے اور دوسری طرف شہریوں کے پُرامن احتجاج کے حق کو یقینی بنانے کا معاملہ بھی زیر بحث ہے۔
ان مظاہروں سے ظاہر ہوتا ہے کہ اٹلی میں بعض شہریوں کی ناراضی صرف معاشی مسائل تک محدود نہیں، بلکہ وہ حکومت کی فوجی ترجیحات اور بین الاقوامی پالیسیوں پر بھی سوال اٹھا رہے ہیں۔










آپ کا تبصرہ